الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ تَوْقِيتِ مُدَّةِ الْمَسْحِ
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 745
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 745]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 175، والبزار: 2757، والطبراني في الكبير: 18/69، والدارقطني: 1/197، والبيھقي: 1/ 175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24495»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ مقیم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں تک اور مسافر تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، مزید وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسح کی مدت موزے پہننے سے نہیں، بلکہ اس وقت سے شروع ہو گی، جب سے وضو ٹوٹے گا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے لیے، لیکن عصر کے وقت وضو ٹوٹتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز عصر سے ہو گا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 175
Al-Fath al-Rabbani Hadith 745 in Urdu