الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذلِكَ وَكَيْفَ كَانَ يُنبدُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيده
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان¤نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
حدیث نمبر: 7482
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ فَنَطْرَحُهَا فِي السِّقَاءِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا أَوْ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بنایا کرتے تھے، ہم ایک مٹھی بھر منقّی یا کھجور مشک میں ڈال کر اس میں پانی ڈالتے، رات کو بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کو پی لیتے اور دن کو بناتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو پی لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7482]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3398، وأخرجه بنحوه مسلم: 2005، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24702»
وضاحت: فوائد: … پانی میں کھجور بھگو کر رکھنا اور اس سے تیار ہونے والا مشروب پینا جائز ہے، اس کو نبیذ کہتے ہیں، لیکن جب ایسا مشروب جوش مارنے لگے یا اس سے خمیر اٹھنے لگے تو اس کا استعمال ناجائز ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ شراب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7482 in Urdu