الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذلِكَ وَكَيْفَ كَانَ يُنبدُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَيُّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيده
نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان¤نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی
حدیث نمبر: 7483
عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنَ الْعِشَاءِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ فَقِيلَ لَهَا أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ قَالَتْ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مشک میں صبح نبیذ بناتے تھے، ہم اسے ڈھانپتے نہ تھے اور نہ ہی ہم اس میں تلچھٹ باقی رہنے دیتے تھے، جب شام ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کا کھانا کھا لیتے تو پھر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ بچ جاتی میں اسے بہا دیتی اور مشک کو دھو دیتی، پھر ہم عشاء کے وقت نبیذ بناتے تھے، جب صبح ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کاکھانا کھا کر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ میں سے کچھ بچ جاتا تو میں اسے بہا دیتی پھر برتن دھویا جاتا۔ مقاتل سے پوچھا گیا: کیا اس حدیث میں مشک دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7483]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25443»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7483 in Urdu