الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي الْوُضُوءِ مِنَ الرِّيحِ
ہواخارج ہونے سے وضو کرنا
حدیث نمبر: 762
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ سَلْمَى مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ امْرَأَةُ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَبِي رَافِعٍ قَدْ ضَرَبَهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي رَافِعٍ: ( (مَالَكَ وَلَهَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟) ) قَالَ: تُؤْذِينِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بِمَ آَذَيْتِيهِ يَا سَلْمَى؟) ) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا آَذَيْتُهُ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ أَحْدَثَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ إِذَا خَرَجَ مِنْ أَحَدِهِمُ الرِّيحُ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَامَ فَضَرَبَنِي، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: ( (يَا أَبَا رَافِعٍ! إِنَّهَا لَمْ تَأْمُرْكَ إِلَّا بِخَيْرٍ) )
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ کی لونڈی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام سیدنا ابو رافعؓ کی بیوی سیدہ سلمی اپنے خاوند کی شکایت کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں، اس نے اس کو مارا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو رافعؓ سے فرمایا: ابو رافع! تیرا اور اس کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمی! تو نے اس کو کون سی تکلیف دی ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کو کوئی تکلیف نہیں دی، یہ بات ضرور ہوئی کہ نماز کے اندر اس کا وضو ٹوٹ گیا، اس لیے میں نے اس سے کہا: اے ابو رافع! بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کسی کی ہوا خارج ہو جائے تو وہ وضو کیا کرے، لیکن یہ کہنا تھا کہ انھوں نے اٹھ کر مجھے مارنا شروع کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر مسکرانے لگ گئے اور یہ فرمانے لگے: ابو رافع! اس نے تو تجھے خیر کا ہی حکم دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 280، والطبراني في الكبير: 24/ 765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26870»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه البزار: 280
Al-Fath al-Rabbani Hadith 762 in Urdu