الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى الحق على التداوي ، وأن لكل داء دواء
علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے
حدیث نمبر: 7628
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ أَبِي خِزَامَةَ أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ وَرُقًى نَسْتَرْقِيهَا وَتُقًى نَتَّقِيهَا هَلْ تَرُدُّ ذَلِكَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ ابو خذامہ، جو بنو حارث بن سعد بن مریم میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیں کہ ایک دوا کے ذریعہ ہم علاج کرواتے ہیں اور دم کے ذریعے دم کرواتے ہیں اوربچاؤ کے ذریعہ سے ہم بچاؤ اختیار کرتے ہیں (یعنی احتیاط کر لیتے ہیں)کیا یہ امور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو ردّ کر دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کاحصہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7628]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه الترمذي: 2148، وابن ماجه: 3437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15553»
وضاحت: فوائد: … کسی بیماری کا علاج کرنے یا کروانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی تقدیر کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، بیماری اللہ تعالی کی آزمائش ہے، ہمیشہ اس سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، اور اگر آدمی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا علاج کرے، ممکن ہے کہ شفا ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شفا نہ ہو۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7628 in Urdu