الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب ما ينفع المريض من العذاء وما يضره
صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
حدیث نمبر: 7702
عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ قَالَتْ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ يَأْكُلَانِ مِنْهَا فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَهْلًا فَإِنَّكَ نَاقِهٌ حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ قَالَتْ وَقَدْ صَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا فَلَمَّا جِئْنَا بِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ مِنْ هَذَا أَصِبْ فَهُوَ أَوْفَقُ لَكَ فَأَكَلَا ذَلِكَ
۔ سیدہ ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے،جو ابھی ابھی (کسی بیماری سے) صحت یاب ہوئے تھے۔ کچھ نیم پختہ کھجوریں، کچھ پک گئی تھیں، لٹکی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کھانا شروع کردیا اور سیدنا علی بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کہہ کر منع فرمانا شروع کر دیا: رک جاؤ، کیونکہ ابھی تک بیماری کی کمزوری باقی ہے۔ سو وہ رک گئے۔ میں نے جو اور چقندر کا ایک کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! یہ کھانا کھاؤ، (یہ تمہارے لیے زیادہ مفید ہے)۔ پس ان دونوں نے یہ کھانا کھایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7702]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3856، وابن ماجه: 3442، والترمذي عقب 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27593»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ مریض کے لیے بعض کھانے کھانا نامناسب ہیں اور جبکہ بعض کھانوں کا استعمال زیادہ مفید ہے، اس سلسلے میں مریض کو اپنے معالج کے نصائح پر عمل کرنا چاہئے۔
الحكم على الحديث: صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7702 in Urdu