🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ مَا يَنْفَعُ الْمَرِيضَ مِنَ الْعَذَاءِ وَمَا يُضِرُّهُ
صحت کے لیے مفید اور مضر غذائوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7699
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ فَصُنِعَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَحَسَوْا مِنْهُ ثُمَّ يَقُولُ إِنَّهُ يَعْنِي لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ بِالْمَاءِ عَنْ وَجْهِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے اگر کسی کو بخار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالیدہ بنانے کا حکم دیتے، جب وہ تیار کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دیتے اس کے گھونٹ بھرو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے غمگین کا دل اور معدہ مضبوط رہتا ہے اور بیمار کے دل کی تکلیف دور ہوتی ہے، جس طرح تم خواتین چہرے کو دھو کر میل کچیل دور کرتی ہو اسی طرح یہ مالیدہ دل اور معدہ کی صفائی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7699]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن السائب، أخرجه الترمذي: 2039، وابن ماجه: 3445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24536»
وضاحت: فوائد: … یہ مالیدہ، آٹے، پانی اور تیل سے تیار کیا جاتا ہے، اس میں میٹھا بھی ملایا جا سکتا ہے، یہ اتنا پتلا ہوتا ہے کہ اس کے گھونٹ بھرے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة والدة محمد بن السائب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7700
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا وَجِعٌ لَا يَطْعَمُ الطَّعَامَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالتَّلْبِينَةِ فَحَسُّوهُ إِيَّاهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَغْسِلُ بَطْنَ أَحَدِكُمْ كَمَا يَغْسِلُ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ مِنَ الْوَسَخِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب کہا جاتا کہ فلاں کو تکلیف ہے، وہ کھانا بھی نہیں کھا رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: آٹے کا مالیدہ بنا کر اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ تمہارے پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جس طرح تم اپنے چہرے سے میل کچیل صاف کرتی ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7700]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام كلثوم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25707»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا زیتون کا تیل، آٹا اور پانی ملا کر ایک شربت تیار کیا جاتا تھا جو مریض کے لئے نہایت ہی مفید ہے اسے حساء کہتے ہیں اور ایک مریض کے لئے یہ طریقہ علاج تھا، جسے آٹے اور شہد سے بنایا جاتا تھا اسے تلبنیہ کہتے تھے یہ بھی نہایت مؤثر علاج تھا کیونکہ ان میں ستو کا آٹا ڈالتے تھے اور پانی میں ڈال کر اسے جوش دلاتے تھے یہ جسم کی فضولیات کی حدت میں کمی کرتا ہے پیشاب آور ہے پیاس ختم کرتا ہے اور گرمی کی شدت کم کرتا ہے اس پر پانچ گنا پانی ڈالا جائے اور اسے جوش دیا جائے کہ اس کا ۵/۲ حصہ باقی رہ جائے۔ یہ دوا مریض کے لئے بہت ہلکی ہے اور بیماریوں کے علاج میں مؤثر ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ام كلثوم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7701
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينِ يَعْنِي الْحَسْوَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ حَتَّى يَلْقَى أَحَدَ طَرَفَيْهِ يَعْنِي يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کو لازم پکڑو، جسے تمہاری طبیعت پسند نہیں کرتی، لیکن وہ نفع بخش بڑی ہے، یہ چیز مالیدہ ہے۔ اس کو گھونٹ گھونٹ کرکے پینا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں میں سے اگر کوئی بیمار ہوتا ہنڈیا آگ پر ہی رہتی تھی، اسے مالیدہ پلاتے تھے یہاں تک کہ معاملہ کنارے لگ جاتا یعنی یا تو مریض فوت ہوجاتا یا پھر صحت یاب ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7701]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام كلثوم، أخرجه ابن ماجه: 3446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25580»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ام كلثوم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7702
عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ قَالَتْ وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ يَأْكُلَانِ مِنْهَا فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَهْلًا فَإِنَّكَ نَاقِهٌ حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ قَالَتْ وَقَدْ صَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا فَلَمَّا جِئْنَا بِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ مِنْ هَذَا أَصِبْ فَهُوَ أَوْفَقُ لَكَ فَأَكَلَا ذَلِكَ
۔ سیدہ ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے،جو ابھی ابھی (کسی بیماری سے) صحت یاب ہوئے تھے۔ کچھ نیم پختہ کھجوریں، کچھ پک گئی تھیں، لٹکی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کھانا شروع کردیا اور سیدنا علی بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں کہہ کر منع فرمانا شروع کر دیا: رک جاؤ، کیونکہ ابھی تک بیماری کی کمزوری باقی ہے۔ سو وہ رک گئے۔ میں نے جو اور چقندر کا ایک کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی! یہ کھانا کھاؤ، (یہ تمہارے لیے زیادہ مفید ہے)۔ پس ان دونوں نے یہ کھانا کھایا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7702]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3856، وابن ماجه: 3442، والترمذي عقب 2037، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27593»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ مریض کے لیے بعض کھانے کھانا نامناسب ہیں اور جبکہ بعض کھانوں کا استعمال زیادہ مفید ہے، اس سلسلے میں مریض کو اپنے معالج کے نصائح پر عمل کرنا چاہئے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں