الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. الرقى والسمائم وما يجوز منها وما لا يجوز
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 7705
وَعَنْهُ أَيْضًا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَنَرْقِيهِمْ قَالَ وَبِمَاذَا فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: میرے بھائی (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ) کی اولاد کے جسموں کو کیا ہو گیا ہے، یہ کمزور ہیں، کیا یہ فاقہ میں ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، ان کو نظر بد بہت جلد لگ جاتی ہے تو کیا ہم ان کو دم کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سے کلام کے ساتھ؟ جب انھوں نے اپنا کلام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں دم کرلیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7705]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14627»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2198
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7705 in Urdu