الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. الرُّقَى وَالسَّمَائِمُ وَمَا يَجُوزُ مِنْهَا وَمَا لَا يَجُوزُ
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤جائز صورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 7703
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نظر بد، زہریلی چیز کے ڈسنے اور پھنسی پھوڑا سے دم کرنے کی رخصت دی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7703]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12218»
وضاحت: فوائد: … دم صرف ان تین چیزوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، ممکن ہے کہ اس موقع پر صرف ان تین کے بارے میں سوال کیا گیا یا ان تین کے لیے دم کی زیادہ اہمیت کو بیان کیا جا رہا ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2196
حدیث نمبر: 7704
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ خَالِي يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ فَلَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى أَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى وَإِنِّي أَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ فَقَالَ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ماموں بچھو کے ڈسنے سے دم کرتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دم کرنے سے منع کر دیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو دم سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھوں کے کاٹنے سے دم کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو آدمی اپنے بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو، وہ پہنچائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7704]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14280»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2199
حدیث نمبر: 7705
وَعَنْهُ أَيْضًا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمُ الْعَيْنُ أَفَنَرْقِيهِمْ قَالَ وَبِمَاذَا فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا: میرے بھائی (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ) کی اولاد کے جسموں کو کیا ہو گیا ہے، یہ کمزور ہیں، کیا یہ فاقہ میں ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، ان کو نظر بد بہت جلد لگ جاتی ہے تو کیا ہم ان کو دم کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون سے کلام کے ساتھ؟ جب انھوں نے اپنا کلام پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں دم کرلیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7705]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14627»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2198
حدیث نمبر: 7706
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِيهِ فَقَالَ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی کو بچھو نے کاٹ لیا، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسے دم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے بھائی کو جس قسم کا نفع پہنچا سکتا ہے، وہ پہنچائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7706]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2199، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15168»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2199
حدیث نمبر: 7707
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حَزْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُعِيَ لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ لَدَغَتْهَا حَيَّةٌ لِيَرْقِيَهَا فَأَبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَاهُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَزْجُرُ عَنِ الرُّقَى فَقَالَ اقْرَأْهَا عَلَيَّ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ إِنَّمَا هِيَ مَوَاثِيقُ فَارْقِ بِهَا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں ایک عورت کو دم کرنے کے لئے بلایا گیا، اس کو سانپ نے ڈسا تھا، لیکن انہوں نے دم کرنے سے انکار کردیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بلایا اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم سے منع جو کررکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس دم کے الفاظ میرے سامنے پڑھو۔ پس جب انھوں نے وہ الفاظ پڑھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ پختہ چیزیں ہیں، ان کے ساتھ دم کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7707]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي: 4/ 328، وأخرجه مسلم: 2199 بلفظ: ارخص النبي صلي الله عليه وآله وسلم في رقية الحية لبني عمرو، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15306»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7708
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ قُلْتُ يَا سَيِّدِي وَالرُّقَى صَالِحَةٌ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ قَالَ عَفَّانُ النَّظْرَةُ وَاللَّدْغَةُ وَالْحُمَةُ
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک پانی کے تالاب کے نزدیک سے گزرے، میں اس میں داخل ہوا اور اس پانی سے غسل کیا، جب میں باہر نکلا تو بخار زدہ تھا، جب اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو ثابت سہیل بن حنیف سے کہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے۔ میں نے کہا: اے میرے سردار! کیا دم کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دم صرف اس وقت کیا جائے جب نظر لگ جائے یا زہریلی چیز ڈس جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7708]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16074»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ نہیں ہے کہ دم ان تین صورتوں کے ساتھ خاص ہے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان بیماریوں کے لیے دم کی اہمیت زیادہ ہے، کیونکہ ان کی تکلیف بہت زیادہ ہوتی ہے، ان کے علاوہ دوسری بیماریوں سے دم کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7709
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ اطْرَحْ مِنْهَا كَذَا وَكَذَا وَارْقِ بِمَا بَقِيَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ وَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ
۔ سیدنا عمیر مولیٰ آبی اللحم کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک دم پیش کیا، جو میں جاہلیت میں دم کیا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے فلاں فلاں حصے اور جملے نکال دو اور پھر جو کلام بچ جائے، اس کے ذریعے دم کیا کرو۔ محمد بن زید کہتے ہیں: میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ وہ اس دم کے ذریعے پاگل لوگوں کو دم کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7709]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مقطعا الطبراني: 17/ 133، 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22287»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7710
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَدَغَنِي عَقْرَبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَقَانِي وَمَسَحَهَا
۔ سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بچھو نے مجھے ڈس لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دم کیا اور ہاتھ پھیرا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7710]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 4/ 416، وابن حبان: 6093، والطبراني في الكبير: 8263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16407»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7711
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الرُّقْيَةِ وَفِي لَفْظٍ رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کرنے کی اجازت دی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5741، ومسلم: 2193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24519»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5741
حدیث نمبر: 7712
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دم تو صرف نظر اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7712]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5705، ومسلم: 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20172»
وضاحت: فوائد: … ہر بیماری سے دم کرنا درست ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۷۷۰۸) اور اس باب کے شروع میں پیش کیا گیا کلام۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5705