الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما يقول من رأى شيئا أعجبه وما يفعل بالمصاب بالعين
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
حدیث نمبر: 7748
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ قَالَ فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخَمَرَ قَالَ فَوَضَعَ عَامِرٌ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ صُوفٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ قَرْقَعَةً فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجِبْنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا قَالَ فَقَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ أَوْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيُبَرِّكْهُ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عامر بن ربیعہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما دونوں غسل کرنا چاہتے تھے، پس وہ دونوں کسی اوٹ کی تلاش میں نکلے، سیدنا سہل نے اپنا اونی جبہ اتارا، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا تو انہیں میری نظر لگ گئی، وہ پانی میں غسل کے لئے اترے تو میں نے پانی میں ان کے پھڑ پھڑانے کی آواز سنی، میں ان کے پاس آیا اور تین آوازیں دیں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل کر تشریف لائے اور پانی میں داخل ہوگئے گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: اَللّٰھُمَّ أَذْہِبْ عَنْہُ حَرَّہَا وَبَرْدَہَا وَوَصَبَہَا۔ (اے اللہ! اس سے اس کی حرارت، ٹھنڈک اور تھکاوٹ سب دور کردے۔) اس کے بعد سہل کھڑے ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی یا خود اپنی جان اور مال میں سے کچھ اچھا لگے تو اس کے لئے برکت کی دعا کرے، نظر کا لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7748]
تخریج الحدیث: «قوله العين حق صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، مع وھم فيه، امية بن ھند بن سھل مجھول الحال، أخرجه ابن ماجة: 3506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15790»
الحكم على الحديث: قوله العين حق صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7748 in Urdu