الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ما يقول من رأى شيئا أعجبه وما يفعل بالمصاب بالعين
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
حدیث نمبر: 7749
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ أَفَطِنْتُمْ لِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيْ رَبِّ أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا أَوْ الْجُوعُ فَلَا وَلَكِنِ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔(اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے لڑتا ہوں اور تیری توفیق سے ہی حملہ کرتا ہوں نقصان سے بچنے اور اچھے کام کرنے کی طاقت صرف تیرے ساتھ ہے) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7749]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 319، والبزار: 2089، والنسائي في الكبري: 10450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19145»
وضاحت: فوائد: … انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالی نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو اللہ تعالی کو اس کا یہ دعوی اتنا ناگوار گزرا کہ اس نے اس کو اور اس کے خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا۔ لہٰذا اگر کسی خاندان یا کسی فرد کو اس کی تعلیمی صلاحیتوں یا سماجی لیاقتوں وغیرہ کے ذریعے عزت ملی ہے تو وہ اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرے اور اس کے سامنے عام انسان کی بہ نسبت زیادہ عاجزی و انکساری کا اظہار کرے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7749 in Urdu