یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب نهي الرجل عن المعصفر وما جاء فى الأحمر
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
حدیث نمبر: 7935
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا عَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِعُصْفُرٍ فَقَالَ مَا هَذِهِ فَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَهَا فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَلَفَفْتُهَا ثُمَّ أَلْقَيْتُهَا فِيهِ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ عَرَفْتُ مَا كَرِهْتَ مِنْهَا فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَأَلْقَيْتُهَا فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ وَذَكَرَ أَنَّهُ حِينَ هَبَطَ بِهِمْ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ صَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَدْرٍ اتَّخَذَهُ قِبْلَةً فَأَقْبَلَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا وَيَدْنُو مِنَ الْجَدْرِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ لَصِقَ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ خَلْفِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع) اذاخر گھاٹی سے اتر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف دیکھا، میرے اوپر ایک چادر تھی جو عصفر بوٹی سے رنگی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ میں پہچان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ناپسند کر رہے ہیں، میں وہاں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا، انہوں نے تنور جلا رکھاتھا، میں نے وہ چادر لپیٹی اور اسے تنور میں پھینک دیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چادر کا کیا بنا؟ میں نے کہا: مجھے آپ کی ناپسندیدگی کا علم ہو گیا تھا، سو میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ تنور جلا رہے تھے، میں نے وہ چادر اس میں پھینک دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے وہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کو پہنا دینا تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذاخر گھاٹی سے نیچے اترے تو ہمیں نماز پڑھائی، سامنے ایک دیوار تھی، اس کو سترہ بنا لیا، ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے گزرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے بچنے کے لیے دیوار کے قریب ہوتے گئے، یہاں تک کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ مبارک کو دیکھا، وہ دیوار کے ساتھ مل گیا اور جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے گزر گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7935]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 708، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6852»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7935 in Urdu