الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء فى الذهب والفضة والحرير وما يجوز استعماله منهما وما لا يجوز
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان¤ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 7943
حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ قَالُوا أَمَّا هَذَا فَلَا قَالَ أَمَّا إِنَّهَا مَعَهُنَّ
۔ ابو شیخ ہنائی کہتے ہیں:میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس صحابہ کرام کی ایک جماعت موجود تھی، سیدنا امیر معایہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونا پہننے سے منع کیا ہے، مگر تھوڑا تھوڑا استعمال کر سکتے ہیں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں۔ پھر انھوں نے کہا: میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چیتوں کے چمڑے بچھانے سے منع فرمایا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: میں بھی گواہی دیتا ہوں، پھر انھوں نے کہا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کرکہتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: نہیں، ایسی بات تو کوئی نہیں ہے، لیکن انھوں نے کہا: خبردار یہ بھی ان کے ساتھ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 7943]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 1794 وأخرجه مختصرا النسائي: 8/ 161، وابن ماجه: 3656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16958»
وضاحت: فوائد: … تھوڑا تھوڑا سونا عربی میں لفظ مُقَطَّع استعمال کیا گیا ہے، یعنی قلیل ہو اور مختلف جگہوں پر ہو، مثلا: تلوار کے دستے پر نقش و نگار کی صورت میں ہو یا نقاط کی صورت میںہو، پورے دستے پر سونا نہ چڑھایا جائے، اسی طرح چاندی کی انگوٹھی پر سونے کے نشانات ہوں۔
الحكم على الحديث: صحیح