🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب استحباب الخضاب والحناء للنساء
خواتین کے لئے مہندی لگانے کے مستحبّ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8154
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ فَقَالَتْ مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ قُلْتُ لَهَا مَا لَكِ قَالَتْ عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا وَفِي رِوَايَةٍ فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی مہندی اور خوشبو لگایا کرتی تھیں، لیکن پھر اس نے یہ چیزیں چھوڑ دیں، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا خاوند گھر پر موجود ہے یا غائب ہے؟ اس نے کہا: حاضر تو ہے، لیکن غائب کی مانند ہے۔ میں نے کہا: کیا مطلب؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ اس نے کہا: عثمان نہ دنیا چاہتے ہیں اورنہ عورتوں سے رغبت رکھتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے یہ بات آپ کوبتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: اے عثمان! کیا تم اسی طرح ایمان رکھتے ہو، جس طرح ہم ایمان رکھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو پھر ہم میں تیرے لیے کوئی نمونہ اور اسوہ نہیں ہے، پس تو اس طرح کر، جیسے ہم کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8154]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25260»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار تھے، تہجد اور عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے بیوی سے بھی دور ہو گئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سمجھایا کہ عبادت کے علاوہ بھی ایسے حقوق ہیں کہ جن کی ادائیگی ضروری اور مسنون ہے، جیسے بیوی کا حق ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 8154 in Urdu