الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 821
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ جُلُوسًا فَأَكَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعَوْتُ بِوَضُوءٍ فَقَالَا: لِمَ تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: لِهَٰذَا الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْنَا، فَقَالَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّيِّبَاتِ؟ لَمْ يَتَوَضَّأْ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ
سیدنا انس بن مالکؓ کہتے ہیں: میں، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت اور روٹی پر مشتمل کھانا کھایا، پھر میں (انس) نے وضو کیلئے پانی منگوایا، ان دونوں نے مجھے کہا: تم کیوں وضو کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اس کھانے کی وجہ سے جو ہم نے کھایا ہے، انھوں نے کہا: کیا تم پاکیزہ چیزیں کھانے کی وجہ سے وضو کرتے ہو؟ اس ہستی نے تو اس قسم کے کھانے کے بعد وضو نہیں کیا تھا، جو تم سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 27، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 69، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21499»
وضاحت: فوائد: … وضو کرنے یا نہ کرنے کا تعلق پاکیزہ چیزوں سے نہیں تھا، شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کرتے تھے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عمل کو ترک کر دیا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 27
Al-Fath al-Rabbani Hadith 821 in Urdu