🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِطَعَامٍ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: قَعَدْتُ مَقْعَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عثمانؓ کو مقاعد میں دیکھا، انھوں نے آگ پر پکا ہوا کھانا منگوا کر کھایا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔پھر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ پر بیٹھا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھانا کھایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی نماز پڑھائی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 376، وعبد الرزاق: 643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 505»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 810
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نیا وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه عبد الرزاق: 637، وابويعلي: 2734، والطبراني: 11267، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1994»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 811
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ إِمَّا ذِرَاعًا مَشْوِيًّا وَإِمَّا كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کا بھونا ہوا بازو یا کندھے کا گوشت کھایا اور پھر نماز پڑھی، جبکہ نہ نیا وضو کیا اور نہ پانی کو چھوا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2286»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 812
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
مولائے رسول سیدنا ابو رافعؓ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24356»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 813
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ نے اسی قسم کی ایک حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 1829، والنسائي: 1/ 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27157»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 814
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بُسِطَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ، قَالَ: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ثُمَّ دَعَاهُ بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَهَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ
محمد بن عمر کہتے ہیں: میں جمعہ کے اگلے دن سیدنا ابن عباسؓ کے پاس گیا، جو سیدہ میمونہؓ کے گھر میں تھے، سیدہ نے ان کے لیے اس گھر کی وصیت کی تھی، جب وہ نمازِ جمعہ ادا کر لیتے تو ان کے لیے اس گھر میں چٹائی وغیرہ بچھا دی جاتی، پس وہ اس گھر کی طرف چلے جاتے اور لوگوں کے لیے بیٹھ جاتے۔ ایک دن ایک بندے نے ان سے آگ پر پکے ہوئے کھانے سے وضو کرنے کے بارے میں سوال کیا، جبکہ میں سن رہا تھا۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، جبکہ اِس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے، اور کہا: میری ان آنکھوں نے دیکھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی حجرے میں وضو کیا، پھر سیدنا بلالؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا اور آپ نکل پڑے، لیکن جب حجرے کے دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روٹی اور گوشت کا ہدیہ وصول ہوا، جو کسی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ والے صحابہ کے ساتھ واپس لوٹ گئے، حجرے میں یہ کھانا لگایاگیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے کھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز کے لیے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی نے پانی کو چھوا تک نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ سیدنا ابْنِ عَبَّاسٍؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری عمل کو پایا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه مختصرا جدا مسلم: 354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2377»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 815
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ (وَفِي لَفْظٍ) فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَطَرَحَ السِّكِّينَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
سیدنا عمرو بن امیہ ضمریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکری کے کندھے سے (چھری کے ساتھ) گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ ایک روایت میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری پھینک دی اور وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 208، 2923، 5408، ومسلم: 355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17382»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 816
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوشت کھایا اور پھر نماز کی طرف کھڑے ہوئے اور پانی کو چھوا تک نہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 5274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3793»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 817
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّ أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، أَشْهَدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ، قَالَ: وَسُلَيْمَانُ حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا
سیدنا ابن عباسؓ نے سیدنا ابو ہریرہؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے، ان کی وجہ سے وضو کر رہا ہوں۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں نے کس چیز سے وضو کرنا ہے، جبکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھے کا گوشت کھایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے اٹھے اور وضو نہیں کیا۔ سلیمان ان دونوں شخصیتوں کے پاس موجود تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 1/ 108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3464»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 818
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّوْا وَلَمْ تَوَضَّئُوا
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمرؓ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا، پھر ان سب نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 192، والنسائي: 1/ 108، وابن ماجه: 489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14312»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں