الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقَزَعِ وَالرُّحْصَةِ فِي حَلْقِ الشَّعْرِ
قزع کی کراہت اور مکمل سر منڈوانے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 8230
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ احْلِقُوا كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوا كُلَّهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8230]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5615»
وضاحت: فوائد: … اس کو پیالہ کٹنگ کہتے ہیں کہ سر کے بعض حصے کو منڈوا دیا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے، اس سے بندہ قبیح لگتا ہے، نیز بعض مشرکوں کی یہ عادت ہوتی تھی کہ وہ ایسے بال رکھتے تھے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی سر کے سارے بالوں کو یا تو منڈوا دے، یا قینچی سے کٹنگ کروائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2120
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8230 in Urdu