الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقَزَعِ وَالرُّحْصَةِ فِي حَلْقِ الشَّعْرِ
قزع کی کراہت اور مکمل سر منڈوانے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 8229
عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ قُلْتُ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایاہے، میں نے کہا: قزع سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کا بعض حصہ منڈوایا جائے اور بعض حصہ رہنے دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8229]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5175»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8230
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ احْلِقُوا كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوا كُلَّهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8230]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5615»
وضاحت: فوائد: … اس کو پیالہ کٹنگ کہتے ہیں کہ سر کے بعض حصے کو منڈوا دیا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے، اس سے بندہ قبیح لگتا ہے، نیز بعض مشرکوں کی یہ عادت ہوتی تھی کہ وہ ایسے بال رکھتے تھے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی سر کے سارے بالوں کو یا تو منڈوا دے، یا قینچی سے کٹنگ کروائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8231
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي قَالَ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا
۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر) تین دن تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور ہم سے فرمایا: آج یا کل کے بعد میرے بھائی جعفر پر نہ رونا، میرے بھتیجوں کو بلاؤ۔ پس ہمیں لایا گیا، ایسے لگ رہا تھا کہ ہم چوزے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حجام کو بلاؤ۔ پس حجام کو لایا گیا، پھر اس نے ہمارے سرمونڈ دئیے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8231]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي في الكبري: 8604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1750»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ عام حالات میں بھی سر منڈوایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ حکم مردوں کے لئے ہے، عورتوں کے لئے سر منڈوانا ناجائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنا سرمنڈوائے (نسائی)
الحكم على الحديث: صحیح