الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب مَا جَاءَ فِي التَّناوُبِ وَآدَابِهِ
جمائی، چھینک اور ان کے آداب کے ابواب¤جمائی اور ان کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8235
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ التَّثَاؤُبَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو اس کو مقدور بھر روکے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9151»
وضاحت: فوائد: … جمائی سستی کی علامت ہے، بدن بوجھل ہوتا ہے، اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، اس سے انسانی صورت بگڑ جاتی ہے، اس لئے اسے روکنے کا حکم ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2994
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8235 in Urdu