🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب مَا جَاءَ فِي التَّناوُبِ وَآدَابِهِ
جمائی، چھینک اور ان کے آداب کے ابواب¤جمائی اور ان کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8232
عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ فِي فِيهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو وہ حسب ِ استطاعت اس کو روکے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8232]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11282»
وضاحت: فوائد: … اگر آدمی ہونٹ بند کر کے ناک سے سانس لے تو جمائی رک جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8233
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11911»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8234
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ آهْ آهْ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فَتَحَ فَاهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ أَوْ بِهِ قَالَ حَجَّاجٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو آدمی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے اور جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اسے مقدور بھر روکے اور آہ آہ کی آواز نہ نکالے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی منہ کھولتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔ حجاج کے روایت میں ہے: رہا مسئلہ جمائی کا، تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8234]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3289، 6223، 6226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9526»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8235
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ التَّثَاؤُبَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو اس کو مقدور بھر روکے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9151»
وضاحت: فوائد: … جمائی سستی کی علامت ہے، بدن بوجھل ہوتا ہے، اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، اس سے انسانی صورت بگڑ جاتی ہے، اس لئے اسے روکنے کا حکم ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں