الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا يَفْعَلُ الْمُصَلَّى وَالْمُخْتَلِي إِذَا سَلَّمَ أَحَدٌ عَلَيْهما
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
حدیث نمبر: 8263
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ صحابی ٔ رسول سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کر کے مجھے جواب دیا، راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انھوں نے انگلی سے اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8263]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 925، والترمذي: 367،والنسائي: 3/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19139»
وضاحت: فوائد: … علامہ سندھی حنفی نے کہا: یُشِیْرُ بِیَدِہ کے الفاظ سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کے ساتھ اشارہ کر کے سلام کا جواب دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی،بلکہ اس کو مکروہ بھی نہیں کہنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8263 in Urdu