الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. بَابٌ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ
آگ پر پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 828
عَنْ فَاطِمَةَ (الزَّهْرَاءِ) بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ عَرْقًا فَجَاءَ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ لِيُصَلِّي فَأَخَذْتُ بِثَوْبِهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ! أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: ( (مِمَّ أَتَوَضَّأُ يَا بُنَيَّةُ؟) ) فَقُلْتُ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، فَقَالَ لِي: ( (أَوَلَيْسَ أَطْيَبُ طَعَامِكُمْ مَا مَسَّتْهُ النَّارُ) )
سیدہ فاطمہ زہراءؓ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ہڈی پر لگاہوا گوشت کھایا، اتنے میں سیدنا بلالؓ نماز کیلئے بلانے کیلئے آ گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑے کو پکڑ کر کہا: اے ابو جان! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! کس چیز سے میں وضو کروں؟ میں نے کہا: آگ پر پکے ہوئے کھانے کو کھانے سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تمہارا سب سے پسندیدہ کھانا وہی نہیں ہے، جس کو آگ پر پکایا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 828]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن بن الحسن بن علي بن ابي طالب لم يدرك جدته فاطمهؓ، ومحمد بن اسحاق مدلس، واختلف عليه۔ أخرجه ابويعلي: 6740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26950»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
Al-Fath al-Rabbani Hadith 828 in Urdu