یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8356
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ قَالَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ فَاسْتَمَعَ فَقَالَ اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ وَابْتَغُوا بِهِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ يُقِيمُونَهُ إِقَامَةَ الْقَدَحِ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ مسجد میں کچھ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کریم پڑھو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غور سے سنا اور پھر فرمایا: تلاوت کرو، تلاوت کرو، ہر ایک اچھا ہے، لیکن اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو تلاش کرو، ایسے لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے کہ وہ اس کی تلاوت اس طرح ٹھیک ٹھیک کریں گے، جس طرح تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن دنیا میں اس کا اجر طلب کریں گے اور آخرت تک اس کے ثواب کو مؤخر نہیں کریں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8356]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14916»
وضاحت: فوائد: … رضائے الہی سے مراد أجرت اور شہرت طلبی وغیرہ کی وجہ سے تلاوت نہ کی جائے، بلکہ محض اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے قرآن مجید پڑھا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8356 in Urdu