🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب ر أى ابن مسعود بل فى مصاحف عثمان
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8411
عَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَصَاحِفِ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ فَقَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَوْ قَالَ حُرُوفٍ وَإِنَّ الْكِتَابَ قَبْلَهُ كَانَ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ
۔ فلفلہ جعفی کہتے ہیں: میں بھی ان گھبرانے والوں میں سے تھا، جو قرآن کے بارے میں گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے، سو ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم صرف ملاقات کے لئے نہیں آئے، ہمارا مقصد تو یہ ہے کہ ہمیں اس خبر نے بہت خوفزدہ کیاہے کہ (قریش کی زبان میں قرآن پڑھا جائے اور دوسرے نسخے جلا دئیے گئے ہیں۔) انہوں نے کہا: تمہارے نبی پر قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے والی کتابیں ایک ہی قراءت پر نازل ہوتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8411]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عثمان بن حسان العامري، ذكره ابن حبان في الثقات، وذكره البخاري في التاريخ الكبير، و ابن ابي حاتم في الجرح والتعديل ولم يذكرا فيه جرحا ولا تعديلا۔أخرجه ابن ابي داود في المصاحف: ص 18، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3094، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4252»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی مختلف قراء ات کی وجہ سے جو اختلاف پیدا ہو گیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ قریش کی قراء ت کو باقی رکھا جائے اور باقی قراء توں کے وجود کو ختم کر دیا جائے، یہ خلیفۂ رسول کا ایک مستحسن فیصلہ تھا، صحابۂ کرام نے ان سے اتفاق کیا، لیکن سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے ان سے مختلف رہی اور وہ اس فیصلے سے متفق نہ ہوئے۔

الحكم على الحديث: ضعیف

Al-Fath al-Rabbani Hadith 8411 in Urdu