🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ نُزُولِ الْقُرْآنِ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8435
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ يَا مُحَمَّدُ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ فَقَالَ جِبْرِيلُ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ قَالَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِكَ تَعَالَ وَأَقْبِلْ وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8435]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله في آخره نحو قولك: تعال، واقبل، وھلم الخ، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20788»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله في آخره نحو قولك: تعال


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8435 in Urdu