الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ نُزُولِ الْقُرْآنِ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
حدیث نمبر: 8435
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ يَا مُحَمَّدُ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ وَفِي لَفْظٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ فَقَالَ جِبْرِيلُ اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ قَالَ اقْرَأْهُ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ فَاسْتَزَادَهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ قَالَ كُلٌّ شَافٍ كَافٍ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ نَحْوَ قَوْلِكَ تَعَالَ وَأَقْبِلْ وَهَلُمَّ وَاذْهَبْ وَأَسْرِعْ وَاعْجَلْ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جبریل علیہ السلام نے کہا: اے محمد! قرآن مجید ایک قراء ت کے مطابق پڑھو۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل اور میکائیل میرے پاس آئے، جبریل نے مجھ سے کہا: قرآن مجید کو ایک قراء ت پر پڑھو، لیکن میکائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: زیادہ گنجائش کا سوال کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ گنجائش کی درخواست کی، تو جبریل نے کہا: دو قراء توں پر پڑھ لو، لیکن میکائیل نے پھر کہا: اور زیادہ مطالبہ کرو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید گنجائش کا مطالبہ کیا،یہاں تک کہ سات قراء ات تک پہنچ گئے، اور پھر انھوں نے کہا: ہر قراء ت شافی اور کافی ہے، جبکہ تک تم عذاب والی آیت کو رحمت والی آیت کے ساتھ اور رحمت والی آیت کو عذاب والی آیت کے ساتھ ختم نہ کر، یہ قراء ت کا معاملہ ایسا ہی ہے، جیسےیہ الفاظ ہیں: تَعَالَ اور أَ قْبِل، ہَلُمَّ اور اِذْہَبْ اور أَ سْرِعْ اور اِعْجَلْ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8435]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله في آخره نحو قولك: تعال، واقبل، وھلم الخ، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20788»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله في آخره نحو قولك: تعال
حدیث نمبر: 8436
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلَى أَيِّ حَرْفٍ قَرَأْتُمْ فَقَدْ أَصَبْتُمْ فَلَا تَمَارَوْا فِيهِ فَإِنَّ الْمِرَاءَ فِيهِ كُفْرٌ
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے، جس قراء ت کے مطابق بھی پڑھو گے، تو درست پڑھو گے، اس میں جھگڑا مت کرو، کیونکہ قرآن مجید میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8436]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17972»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 8437
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا جَاءَ فِي رِوَايَةٍ وَقَرَأَ رَجُلٌ خِلَافَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ بَلَى فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَلَمْ تُقْرِئْنِيهَا كَذَا وَكَذَا فَقَالَ بَلَى كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَضَرَبَ صَدْرِي فَقَالَ يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفٍ أَوْ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى حَرْفَيْنِ فَقُلْتُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقُلْتُ عَلَى ثَلَاثَةٍ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ إِنْ قُلْتَ غَفُورًا رَحِيمًا أَوْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا أَوْ عَلِيمًا سَمِيعًا فَاللَّهُ كَذَلِكَ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بَعْدَ قَوْلِهِ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْ أُبَيٍّ الشَّكَّ فَفِضْتُ عَرَقًا وَامْتَلَأَ جَوْفِي فَرَقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ إِنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَقَالَ أَحَدُهُمَا اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى أَرْبَعَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ قُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى خَمْسَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ قُلْتُ زِدْنِي فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى سِتَّةٍ فَقَالَ الْآخَرُ زِدْهُ فَقَالَ اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آیت پڑھی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی آیت پڑھی، لیکن ان کی آیت میری آیت سے مختلف تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے مجھے فلاں فلاں آیت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے مجھے یہ ایسے ایسے نہیں پڑھائی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے درست پڑھا ہے۔ میں (ابی) نے کہا: دونوں کس طرح درست ہو سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: اے ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا اور کہا گیا کہ ایک یادو قراء توں پر؟ جو فرشتہ میرے ساتھ تھا، اس نے کہا: دو قراء توں پر، میں نے کہا: دو قراءتوں پر۔ لیکن اس نے پھر کہا: دو قراء توں پر یا تین پر؟ جو فرشتہ میرے پاس تھا، اس نے کہا: تین قراء توں پر، میں نے کہا: تین قراء توں پر، حتیٰ کہ سات قراء توں تک پہنچ گئے، ہر ایک تسلی بخش اور کفایت کرنے والی ہے، اگر تم کہو غَفُورًا رَحِیمًا،یا کہو سَمِیعًا عَلِیمًا،یا کہو عَلِیمًا سَمِیعًا، پس اللہ تعالیٰ تو ایسے ہی ہے نا۔ ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینہ پر مارا اور فرمایا: اے اللہ! ابی سے شک دور کر دے۔ ابی کہتے ہیں: میں پسینہ سے شرابور ہوگیا اور میرا پیٹ خوف سے بھر گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابی! دو فرشتے میرے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا: ایک قراء ت پر قرآن پڑھو، دوسرے نے کہا: زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: زیادہ کردو، اس نے کہا چار قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کردو، میں نے بھی کہا: میرے لئے اور اضافہ کرو، اس نے کہا: پانچ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور زیادہ کر دو۔ میں نے بھی کہا: اور زیادہ کردو۔ چھ قراء توں پر پڑھ لو، دوسرے نے کہا: اور اضافہ کردو، اس نے کہا: سات قراء توں پر پڑھ لو۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8437]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21467»
وضاحت: فوائد: … یہ دو فرشتے جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابوداود: 1477
حدیث نمبر: 8438
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَا يَقْرَأُ كِتَابًا قَطُّ قَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8438]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2908، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23790»
وضاحت: فوائد: … اُمّی ایسے شخص کو کہتے ہیں، جو روایتی پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه البزار: 2908
حدیث نمبر: 8438M
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ قَالَ أَبُو وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبَةً عَنْهُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8438M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بھذا اللفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:23273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23662»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8439
عَنْ أُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ فِيهِمُ الشَّيْخُ الْعَاسِي وَالْعَجُوزَةُ الْكَبِيرَةُ وَالْغُلَامُ قَالَ فَمُرْهُمْ فَلْيَقْرَءُوا الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جبریل علیہ السلام کی احجاز المراء کے پاس ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: مجھے اُمّی امت کی طرف بھیجا گیا ہے، اس میں بہت بوڑھے خواتین و حضرات اور غلام بھی ہیں، انہوں نے کہا: چلو، آپ ان کو حکم دیں کہ وہ قرآن مجید کو سات قراء توں پر تلاوت کرلیں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8439]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21523»
الحكم على الحديث:
صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2944
حدیث نمبر: 8440
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں کے مطابق نازل کیا گیاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8440]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20441»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8441
عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ أَيُّهَا قَرَأْتِ أَجْزَأَكِ
۔ سیدنا ام ایوب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں میں نازل ہوا ہے، تم ان میں سے جو بھی پڑھو گی، وہ تجھے کفایت کرے گی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8441]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 340، وابن ابي شيبة: 10/ 515، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28175»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره ۔ أخرجه الحميدي: 340
حدیث نمبر: 8442
عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8442]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 742، والطبراني في الاوسط: 5246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21407»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابن حبان: 742
حدیث نمبر: 8443
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: قراء توں کا یہ اختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے بارے میں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8443]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3219، 4991، ومسلم: 819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2375»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3219