الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ نُزُولِ الْقُرْآنِ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
حدیث نمبر: 8443
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ایک قراء ت پڑھائی، میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ قرائتیں زیادہ کی جائیں اور وہ زیادہ کرتے، یہاں تک کہ معاملہ سات قراء توں تک پہنچ گیا۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: قراء توں کا یہ اختلاف حقیقت میں ایک ہی معاملے کے بارے میں ہے، اس سے حلال و حرام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8443]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3219، 4991، ومسلم: 819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2375»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3219
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8443 in Urdu