الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مُعَارَضَةِ جِبْرِيلَ وَالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْقُرآن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8448
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْكِتَابَ عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ فَإِذَا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ أَصْبَحَ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ فَلَمَّا كَانَ فِي الشَّهْرِ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ عَلَيْهِ عَرْضَتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہر ماہِ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کو جبریل علیہ السلام پر پیش کرتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات کے بعد صبح کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرنے والے ہوتے، آپ سے جس چیز کا سوال کیا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر دیتے، جب رمضان کا وہ مہینہ آ گیا، جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تھے، اس مہینے میں دو بار قرآن مجید پیش کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6، 3220، 3554، ومسلم: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2042»
وضاحت: فوائد: … رمضان، قرآن مجید کا دور اور جبریل علیہ السلام سے ملاقات، ان امور کی برکت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ وفات والے سال دو بار دور کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ناسخ و منسوخ اور ہر قسم کی تبدیلی کا اچھی طرح پتہ چلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ میں مزید جلاء آ جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: أَسَرَّ إِلَیَّ أَنَّ جِبْرِیلَ کَانَ یُعَارِضُنِی الْقُرْآنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَإِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ وَلَا أُرَاہُ إِلَّا حَضَرَ أَ جَلِی۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے رازدارانہ انداز میں بات کی کہ جبریل علیہ السلام ہر سال مجھ سے قرآن مجید کا ایک بار دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال دو بار دور کیا ہے، میرایہی خیال ہے کہ میری وفات کا وقت آچکا ہے۔ (صحیح بخاری: ۳۳۵۳)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8448 in Urdu