🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مُعَارَضَةِ جِبْرِيلَ وَالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلْقُرآن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا جبریل کا قرآن مجید کا دور کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8449
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرَائِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: دو قراء توں میں سے آخری قراء ت کونسی تھی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ مجاہد کہتے ہیں: ہم نے کہا: سیدنا زید رضی اللہ عنہ والی آخری ہے، انہوں! بعض نسخوں میں اِلَّا نہیں ہے اور ترجمہ اسی لحاظ سے کیا گیا ہے۔ نے کہا: نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام پر ہر سال قرآن مجید پیش کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر قرآن مجید دو بار پیش کیا اور آخری قرات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البزار: 2683، والحاكم: 2/ 230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2494»
وضاحت: فوائد: … اس میںسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بھی بیان ہے، کیونکہ ان کی قراء ت اِس آخری دور اور پیشی کے مطابق تھی۔

الحكم على الحديث:
صحيح ۔ أخرجه البزار: 2683


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8449M
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلَ قَالُوا قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ هِيَ الْآخِرَةُ كَانَ يُعْرَضُ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَشَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَعَلِمَ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دو قراء توں میں سے کونسی قرات پہلی شمار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ والی قراء ت؟ انھوں نے کہا: بلکہ یہ آخری ہے، ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال دو بار پیش کیا گیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس پیشی کے وقت حاضر تھے، سو انھوں نے جان لیا کہ قرآن مجید کا کونسا حصہ منسوخ ہوا اور کونسا تبدیل ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8449M]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 559، وابويعلي: 2562، والنسائي في الكبري: 7994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3422»
وضاحت: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جبریل علیہ السلام ہر سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید پیش کیا کرتے تھے، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی، اس سال انھوں نے دو بار پیش کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 559


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8449 in Urdu