الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ فِي الِاسْتِثَارِ عِنْدَ الْغُسْلِ
غسل کے وقت پردہ کرنا
حدیث نمبر: 866
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ) )
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 279، 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8144»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نہاتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر دیکھنے والا کوئی آدمی ہو تو یہ پردہ فرض ہے اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو مستحب ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 279
Al-Fath al-Rabbani Hadith 866 in Urdu