الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. بَابُ: «وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا آخَر»
{اِنَّ الَّذِیْنَ جَائُ وْا بِالْاِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ … اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8689
عَنْ عُرْوَةَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا قَالَ لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ إِلَّا أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ كَانَ يُقَالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ تہمت کی باتیں کرنے والوں میں حسان بن ثابت، مسطح بن اثاہ اور حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم کے نام لیے گئے، ان کے علاوہ اور لوگ بھی شامل تھے، لیکن مجھے ان کا علم نہیں ہے، بہرحال یہ ایک جماعت تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں عُصْبَۃٌ لفظ استعمال کیا ہے۔ سب سے زیادہ حصہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کا تھا، عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ ناپسند کیا کرتی تھیں کہ ان کے ہاں سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جائے، نیز وہ کہا کرتی تھیں کہ حسان رضی اللہ عنہ تو وہ ہے، جس نے کہا تھا: پس بیشک میرا باپ اور اس (باپ) کا باپ اور میری عزت، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کو تم سے بچانے والی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8689]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4141، 4680، 6662، 6679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26142»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4141
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8689 in Urdu