الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ »
{وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8696
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ يَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} … اور اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8696]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25558»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ایک ہی ہے، مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو خصوصی طور پر سمجھایا کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 205
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8696 in Urdu