یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب: وتأتون فى ناديكم المنكر
سورۂ قصص {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8697
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ} [القصص: 56] الْآيَةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچے سے فرمایا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دو، میں قیامت کے روز اس کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ لیکن انھوں نے کہا: اگر قریشی مجھے عار دلاتے ہوئے یہ نہ کہتے کہ بے صبری نے ابو طالب کو یہ کلمہ پڑھنے پر آمادہ کر دیا ہے تو میں یہ کلمہ ادا کر کے آپ کی آنکھ کو ٹھنڈا کر دیتا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی اتاری: {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ۔} … بے شک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8697]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9610 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9608»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس پر مفسرین کا اتفاق ہے کہ {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ … } والی آیت ابوطالب کے بارے میںنازل ہوئی۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہدایت صرف اللہ کے اختیار میں ہے اور کسی کا ہدایت قبول کرنا یا نہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضے کی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو صرف اللہ تعالی کا پیغام پہنچادینے کا فریضہ ہے، ہدایت کا مالک اللہ تعالی ہے، وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبولِ ہدایت کی توفیق بخشتا ہے۔ جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدٰھُمْ} … تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں ہے۔ نیز ارشادِ باری تعالی ہے: {وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ} … گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے۔ یہ اللہ کے علم میں ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور ضلالت کا حقدار کون ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8697 in Urdu