🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب: يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم
{وَھُوَ الَّذِیْنَ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ …} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8756
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأُخِذُوا وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: 24] قَالَ يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ والے دن مکہ والوں میں سے اسی (۸۰) ہتھیاروں سے لیس آدمی تنعیم پہاڑ کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر چڑھ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بددعا کی، پس ان کو گرفتا کر لیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: { وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَ یْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَ ظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ} … وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8756]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12227 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12252»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام حدیبیہ میں تھے تو کافروں نے ۸۰ آدمی، جو ہتھیاروں سے لیس تھے، اس نیت سے بھیجے کہ اگر انہیں موقع مل جائے تو دھوکے سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے خلاف کاروائی کریں، چنانچہ یہ مسلح جتھہ جبل تنعیم کی طرف سے حدیبیہ میں آیا، جس کا علم مسلمانوں کو بھی ہو گیا اور انھوں نے ہمت کر کے ان تمام آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور بارگاہ رسالت میں پیش کر دیا، ان کا جرم تو شدید تھا اور ان کو جو بھی سزا دی جاتی، صحیح ہوتی،لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر جنگ ناگزیر ہو جاتی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقعے پر جنگ کے بجائے صلح چاہتے تھے، کیونکہ اسی میں مسلمانوں کا مفاد تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو معاف کر کے چھوڑ دیا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 8756 in Urdu