الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: «ثُمَّ لَتُسْتَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ»
{اَلْہَاکُمْ} یعنی سورۃالتکاثر {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8840
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [سورة التكاثر] قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ
۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں: {أَ لْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ … … لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ}لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سے کون سی نعمتوں کے متعلق سوال ہوگا، بس پانی اور کھجور، یہ دو چیزیں تو ہماری خوراک ہے اور ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر سجی ہوئی ہیں اور دشمن کا سامنا رہتا ہے،پس کس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب یہ نعمتیں ہو ں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8840]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 231، والطبري في تفسيره: 30/ 288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24040»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْہٰکُمُ التَّکَاثُرُ۔ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ کَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِ۔ لَتَرَوُنَّ الْجَــحِیْمَ۔ ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیْنَ الْیَقِیْنِ۔ ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۔} … تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبرستان جا دیکھے۔ ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔ پھر ہرگز نہیں، تم جلدی جان لوگے۔ ہرگز نہیں، کاش! تم جان لیتے،یقین کا جاننا۔ کہ یقینا تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔ پھر یقینا تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لوگے۔ پھر یقینا تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤ گے۔
زیادتی کی خواہش، یہ عام ہے، مال، اولاد،اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شام ہے، ہر وہ چیز، جس کی کثرت کے حصول کی کوشش اور خواہش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے، یہاں اللہ تعالی اسی کمزوری کوبیان کر رہا ہے، جس میں انسانوں کی اکثریت ہردور میںمبتلا رہی ہے۔
زیادتی کی خواہش، یہ عام ہے، مال، اولاد،اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شام ہے، ہر وہ چیز، جس کی کثرت کے حصول کی کوشش اور خواہش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے، یہاں اللہ تعالی اسی کمزوری کوبیان کر رہا ہے، جس میں انسانوں کی اکثریت ہردور میںمبتلا رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن ۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 231
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8840 in Urdu