الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: «ثُمَّ لَتُسْتَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ»
{اَلْہَاکُمْ} یعنی سورۃالتکاثر {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8841
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [سورة التكاثر: ٨] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: { ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ} … پھر تم اس دن نعمتوں کے متعلق ضرور ضرور سوال کئے جاؤ گے۔ توسیدنا زبیر نے کہا:اے اللہ کے رسول! کونسی نعمتیں ہیں، جن کے متعلق ہم سے سوال ہوگا،اب تو ہمارے پاس صرف یہ دو کالے رنگ کی نعمتیں پانی اور کھجور ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب وہ نعمتیں ہوں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8841]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4158، والترمذي: 3236، 3356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1405 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1405»
وضاحت: فوائد: … جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیشن گوئی پوری ہو گئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی اکثرت دنیاوی مال و اسباب میں غافل ہو گئی۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابن ماجه: 4158
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8841 in Urdu