🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب ر أى ابن مسعود أن المعودتين ليسنا من كتاب الله ورد ذلك
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8880
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُهَا فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقُلْتُهَا فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو معوذ تین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے،انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ خبر دی کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں نے کہہ دیا، جبریل نے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، پس میں نے کہہ دیا، سو ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8880]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21505»
وضاحت: فوائد: … اس مقام پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صحابۂ کرام اس حقیقت پر متفق تھے کہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس قرآن مجید کا حصہ ہیں، انھوں نے ان کو ان مصاحف میں لکھا تھا، جن کو ساری اسلامی خلافت میں بھیجا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کرنا ثابت ہے، صرف سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییہ رائے ہے، ممکن ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان کی تلاوت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کے لیے اور پناہ مانگنے کے لیے ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے، اس وجہ سے ممکن ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو دم سے متعلقہ دعائیں سمجھ لیا ہو۔ امام بزار نے کہا: کسی صحابی نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس رائے پر ان کی متابعت نہیں کی، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ان کی تلاوت کی ہے۔ دیگر شرعی مسائل میں بھی صحابۂ کرام میں اس قسم کی مثالیںموجود ہیں، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو آدمییہ بیان کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، ان کی تصدیق نہ کی جائے، جبکہ دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 797


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8880 in Urdu