🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى النية
نیت کے بارے میں باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8886
عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُهُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ
۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید رضی اللہ عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8886]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15954»
وضاحت: فوائد: … سیدنایزید رضی اللہ عنہ نے محتاج پر صدقہ کرنے کی نیت سے ایک آدمی کو وکیل بنا کراپنے دینار اس کے پاس رکھ دیئے اور اس کو مطلق طور پر اجازت دے دی، جب وہی رقم بیٹے نے وصول کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وصولی کو نافذ کر دیا، کیونکہ وہ فقراء میں داخل تھا۔
مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق، معن نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ (بلوغ الامانی، زیر مطالعہ حدیث)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: اس جھگڑے سے مراد معن اور اس کے باپ یزید کے درمیان صدقہ کے حوالے سے ہونے والی بحث ہے۔ جس میں آپ نے معن کے ضرورت مند ہونے کی وجہ سے اس کے صدقہ پکڑنے کو درست قرار دیا۔ (فتح الباری ج۳، ص ۲۹۲) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 8886 in Urdu