الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرَّأْسِ وَنَقْضِ الشَّعْرِ عِنْدَ الْغُسْلِ
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 890
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَخْرُجْنَ مَعَهُ عَلَيْنَا الضِّمَادُ نَغْتَسِلْنَ فِيهِ وَنَعْرَقْنَ لَا يَنْهَانَا عَنْهُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحَرَّمَاتٍ
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 890]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25576»
وضاحت: فوائد: … جب امام اسحاق نے یہ روایت بیان کی تو انھوں نے اس کے آخر میں یہ زیادتی کی: وَالضَّمَادُ ھُوَ السُّکُّ۔ … … ضماد سے مراد ایک قسم کی مشک ملی ہوئی خوشبو ہے۔ مسند احمد (۲۴۵۰۲) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلتی تھیں، جبکہ ہم احرام سے پہلے اپنے سروں کو لیپ کر لیتی تھیں، پھر اِس سمیت غسل کرتی رہتی تھیں اور ہم کو پسینہ آتا رہتا تھا اور پھر ہم غسل کرتی تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث کا تعلق غسل جنابت سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر ۸۹۰ میں تو صاف آ رہا ہے کہ احرام اور غیر احرام حالت میں وہ غسل کرتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ فوائد میں مذکور حدیث میں احرام کی حالت کا ذکر ہے اور متن میں مذکور حدیث میں احرام کے علاوہ حالت کا ذکر بھی ہے۔
اس لیے ازواج مطہرات کے غسل کرنے کو عموم پر محمول کرنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سر کو لیپ کیا ہوا ہو تو غسل کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ غسل جنابت ہو یا عام غسل۔ غسل جنابت کے لیے بالوں کو کھولنا یا لیپ کو اتارنا ضروری نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر ۸۹۰ میں تو صاف آ رہا ہے کہ احرام اور غیر احرام حالت میں وہ غسل کرتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ فوائد میں مذکور حدیث میں احرام کی حالت کا ذکر ہے اور متن میں مذکور حدیث میں احرام کے علاوہ حالت کا ذکر بھی ہے۔
اس لیے ازواج مطہرات کے غسل کرنے کو عموم پر محمول کرنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سر کو لیپ کیا ہوا ہو تو غسل کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ غسل جنابت ہو یا عام غسل۔ غسل جنابت کے لیے بالوں کو کھولنا یا لیپ کو اتارنا ضروری نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1830
Al-Fath al-Rabbani Hadith 890 in Urdu