الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرَّأْسِ وَنَقْضِ الشَّعْرِ عِنْدَ الْغُسْلِ
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 891
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُؤُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، هُوَ يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُؤُوسَهُنَّ، أَعَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ، لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ
عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24661»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ حیض اور جنابت کے غسل کے لیے عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سارے بال کھول کر ان کو تر کریں، بلکہ ان کو یہ عمل کفایت کرے گا کہ بال کھولے بغیر سر پر تین چلو ڈال دیں، لیکن بالوں کی جڑوں اور سر کے چمڑے تک پانی پہنچنا چاہیے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ اسماء ؓ کے حیض کے غسل سے متعلقہ سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ((ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَاْسِھَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی تَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَاْسِھَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْھَا الْمَائَ، …۔)) … پھر وہ اپنے سر پر پانی ڈالے اور اس کو سختی سے ملے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 231
Al-Fath al-Rabbani Hadith 891 in Urdu