الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء فى حديث النفس ووسوسة الشيطان وتجاوز الله عز وجل عنه
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 8902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِالشَّيْءِ لَأَنْ يَكُونَ أَحَدُنَا حُمَمَةً أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَقْدِرْ مِنْكُمْ يَعْنِي الشَّيْطَانَ إِلَّا عَلَى الْوَسْوَسَةِ) ) وَقَالَ الْآخَرُ ( (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا:اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہیں کہ ان کے بارے میں گفتگو کرنے کی بہ نسبت یہ چیز ہمیں زیادہ پسند ہے کہ ہم کوئلہ بن جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اِس شیطان کو صرف وسوسہ ڈالنے کی طاقت دی ہے۔ ایک راوی کے الفاظ یہ ہیں: سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ جس نے شیطان کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8902]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 5112، وأخرجه بنحوه النسائي: 668، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3161»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8902 in Urdu