الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء فى حديث النفس ووسوسة الشيطان وتجاوز الله عز وجل عنه
نفس کی گفتگو یعنی دل کے خیالات اور شیطان کے وسوسے اور اللہ تعالیٰ کا اس کو معاف کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 8903
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي لَأَنْ أَكُونَ أَخِرُّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے ایسے خیالات آ جاتے ہے کہ ان کے بارے میں کلام کرنے کی بہ نسبت یہ چیز مجھے زیادہ پسند لگتی ہے کہ میں آسمان سے گر جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ سب سے بڑا ہے، سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس شیطان کے مکر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا ہے۔ [الفتح الربانی/الإخلاص فى النية والعمل/حدیث: 8903]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2097»
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2097
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8903 in Urdu