الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الاقتصاد فى الأعمال
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8914
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ( (لِمَنْ هَذَا) ) قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ ( (لَتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ) )
۔ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی رسی دیکھی اور پوچھا: یہ کس کی ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ (نماز پڑھتے پڑھتے) عاجز آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق نماز پڑھے، پس جب وہ عاجز آ جائے تو (نماز ترک کر کے) بیٹھ جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8914]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 3831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12946»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8914 in Urdu