الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8905
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لَا أَنْحَاشُ لَهَا عَمَّا بِي مِنَ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلَكِ قَالَتْ خَيْرُ الرِّجَالِ أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَعَذَمَنِي وَعَضَّنِي بِلِسَانِهِ فَقَالَ أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَهَا وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَانِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي ( (أَتَصُومُ النَّهَارَ) ) قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ( (وَتَقُومُ اللَّيْلَ) ) قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ( (لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَمَسُّ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي) ) قَالَ ( (اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ) ) قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ ( (فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ) ) قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَحَدُهُمَا إِمَّا حُصَيْنٌ وَإِمَّا مُغِيرَةُ ( (فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ) ) وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ ( (فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ) ) قَالَ ثُمَّ قَالَ ( (صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ) ) قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ ( (صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَإِنَّهُ أَفْضَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ) ) قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (فَإِنَّ لِكُلِّ عَابِدٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى بِدْعَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ) ) قَالَ مُجَاهِدٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَيْثُ قَدْ ضَعُفَ وَكَبِرَ يَصُومُ الْأَيَّامَ كَذَلِكَ يَصِلُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ لِيَتَقَوَّى بِذَلِكَ ثُمَّ يُفْطِرُ بَعْدَ تِلْكَ الْأَيَّامِ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ حِزْبٍ كَذَلِكَ يَزِيدُ أَحْيَانًا وَيَنْقُصُ أَحْيَانًا غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ إِمَّا فِي سَبْعٍ وَإِمَّا فِي ثَلَاثٍ قَالَ ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَوْ عَدَلَ لَكِنِّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا)۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور میری خوب ملامت کی اور مجھے برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8905]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه نحوه دون ذكر القراء ة والشرة، وقوله واصوم و افطر البخاري: 1980، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6477»
وضاحت: فوائد: … تلاوت کی وہ مقدارجس کو ہر رات کو پڑھنے کا معمول بنایا جائے، اس کو حزب کہتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید ختم نہیں کیا جا سکتا اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کو ان کی مصلحتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید ختم نہیں کیا جا سکتا اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کو ان کی مصلحتوں کی طرف رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8906
عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ) ) قَالُوا وَلَا إِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (وَلَا إِيَّايَ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ) )
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک صورتحال یہ ہے کہ تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دلائے گا۔ صحابہ نے کہا: اور نہ آپ کو اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور نہ مجھے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2817، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14682»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ عذاب سے نجات اور اجر و ثواب کے ساتھ کامیابی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل و کرم پر ہے، عامل کے عمل کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس کا ثواب دینا اللہ تعالیٰ پر فرض ہو گیا ہے اور وہ بندے کا ایسا حق بن گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو ادا کرنا پڑے گا، جبکہ عمل کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور اس کے اسباب بھی اسی نے مہیا کیے تھے، دراصل نیکی کا اجرو ثواب محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْب’‘ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ} … اور تم خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارو، بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔ (الاعراف: ۵۶)
لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید نہ کیا جائے کہ عمل کی وقعت ختم ہو گئی ہے، دراصل بندوں کو اس بات پر مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہو گا، تاکہ وہ اپنے اعمال پر ناز کرنا شروع نہ کر دیں، بلکہ عملِ کثیر کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج سمجھیں اور اس کے منتظر رہیں۔
اس طرح اس حدیث کا اس آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور تم کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا، ان اعمال کے سبب، جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۂ زخرف: ۷۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عمل کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے، لیکن عمل کرنے والوں کو اپنا صلہ پانے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہے۔
لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مفہوم کشید نہ کیا جائے کہ عمل کی وقعت ختم ہو گئی ہے، دراصل بندوں کو اس بات پر مطلع کیا جا رہا ہے کہ ان کا عمل اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے مکمل ہو گا، تاکہ وہ اپنے اعمال پر ناز کرنا شروع نہ کر دیں، بلکہ عملِ کثیر کرنے کے باوجود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج سمجھیں اور اس کے منتظر رہیں۔
اس طرح اس حدیث کا اس آیت سے کوئی تعارض نہیں ہے: {وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور تم کو اس جنت کا وارث بنا دیا گیا، ان اعمال کے سبب، جو تم کیا کرتے تھے۔ (سورۂ زخرف: ۷۲)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ عمل کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے، لیکن عمل کرنے والوں کو اپنا صلہ پانے اور کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ضرورت ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8907
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ يَنْتَصِبُونَ فِي الْعِبَادَةِ مِنْ أَصْحَابِهِ نَصَبًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (تِلْكَ ضَرَاوَةُ الْإِسْلَامِ وَشَرَّتُهُ وَلِكُلِّ ضَرَاوَةٍ شَرَّةٌ وَلِكُلِّ شَرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فَلِأُمِّ مَا هُوَ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى مَعَاصِي اللَّهِ فَذَلِكَ هُوَ الْهَالِكُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ میں سے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو بڑی سختی سے عبادت کرنے میں گڑ چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اسلام کا چسکہ، شدت اور حرص ہے اور ہر چسکے کی حرص اور اس میں افراط ہوتا ہے، لیکن ہر افراط کے بعد سستی اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ کتاب و سنت کی طرف ہوا اس نے سیدھے راستے کا قصد کیا اور جس کی سستی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی طرف ہوئی تو وہ ہلاک ہونے والا ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8907]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن،أخرجه الطبراني في الكبير، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6540»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ مزید ایک روایتیہ ہے:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِلإِْسْلَامِ شِرَّۃً، وَإِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً، فَإِنْ کَانَ صَاحِبُھُمَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوْہُ، وَإِنْ أُشِیْرَ إِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ فَـلَا تَرْجُوْہُ۔)) … اسلام کے لیےحرص، شدت اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت کے بعد سکون اور تھماؤ ہوتا ہے، (دیکھو) اگر نیک کام کی رغبت رکھنے والا راہِ صواب پر چلتا ہے اور میانہ روی اختیار کرتا ہے تو اس کے بارے میں امید رکھو (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہو گا) اور اگر (وہ عبادت میں اس قدر غلو کرے کہ) اس کی طرف انگلیوں کے ساتھ اشارے کیے جائیں تو اس کے بارے میں امید نہ رکھو (کہ وہ نیک آدمی ہو گا)۔ (ترمذی: ۲۴۵۵،صحیحہ:۲۸۵۰)
اگر کسی شخص کو دین اسلام کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ صاحب ِ دین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ حیات کو اسوۂ حسنہ قرار دے اور افراط و تفریط سے بچے۔
اور ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہوتی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میںمبالغہ کرنے والا بالآخر سست پڑ جاتا ہے، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں دو قسم کے لوگوں کا بیان ہے:
۱ … نیک لوگ، جو اعتدال اور میانہ روی سے کام لیتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں، بالخصوص ماں باپ، اہل و عیال اور اعزہ واقارب کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، ان کے معاملات میں تسلسل اور استقامت ہوتی ہے، ان کی عبادات میں اس قدر کثرت نہیں پائی جاتی کہ وہ اس بنا پر مشہور ہو جائیں، عام طور پر ایسے لوگ پرخلوص ہوتے ہیں اور اپنی مراد پر فائز ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں اچھی امید رکھنی چاہیے۔
۲ … اس کے برعکس کچھ لوگ عبادت اور نیکی میں اس قدر افراط اور غلو کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں، سب لوگوں میں ان کا بڑا شہرہ ہونے لگتا ہے کہ فلاں بڑا عابد و زاہد، درویش ِ کامل اور عالم و فاضل ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ مکّار اور ریاکار نکلتے ہیں، ان کی غرض شہرت اور ناموری ہوتی ہے، افراط و تفریط میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بیوی بچوں اور ماں باپ کے حقوق پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ طریقہ خلاف ِ سنت ہے۔
اس میں جاہل درویشوں کا ردّ ہے، جو رات دن مراقبے اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں، سخت سخت ریاضت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو شریعت کا پابند ٹھہرنا چاہیے نہ کہ اپنی عقل کا اور جہاں تک ہو سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپنے اعمال کو مخفی رکھنا چاہیے۔ ہر وقت یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھا جائے، ہمارے ماحول میں بھی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ لوگ حقوق اللہ کا بہانہ کر کے بندوں کے حقوق سے غفلت برت رہے ہیں اور کچھ حقوق العباد کابہانہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حقوق سے غافل ہیں۔
بعض نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ کسی خطیب کے خطاب یا کسی نیکوکار کی مجلس سے متاثر ہو کر عملی طور پر اسلام کی طرف راغب ہوتے ہے اورہفتہ عشرہ تک ان کا عمل جاری رہتا ہے، پھر ان پر غفلت اور سستی کاحملہ ہوتا ہے اور مزاج یکسر بدل جاتا ہے، اس وقت ان کے لیے انتہائیضروری ہوتا ہے کہ وہ عبادت کی روٹین کو برقرار رکھ کر شیطان کا مقابلہ کریں،یہاں تک کہ دوبارہ پھر رغبت پیدا ہوئے، یہ رغبت ان شاء اللہ دائمی ہو گی، جو لوگ غفلت والے اس پیریڈ میں اپنی روٹین کو ترک کر دیتے ہیں، ان کی عبادات میں کبھی تسلسل اور دوام نہیں آ سکتا، بلکہ وہ اپنی انسانیت کو سمجھنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِلإِْسْلَامِ شِرَّۃً، وَإِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً، فَإِنْ کَانَ صَاحِبُھُمَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوْہُ، وَإِنْ أُشِیْرَ إِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ فَـلَا تَرْجُوْہُ۔)) … اسلام کے لیےحرص، شدت اور رغبت ہوتی ہے اور ہر رغبت کے بعد سکون اور تھماؤ ہوتا ہے، (دیکھو) اگر نیک کام کی رغبت رکھنے والا راہِ صواب پر چلتا ہے اور میانہ روی اختیار کرتا ہے تو اس کے بارے میں امید رکھو (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہو گا) اور اگر (وہ عبادت میں اس قدر غلو کرے کہ) اس کی طرف انگلیوں کے ساتھ اشارے کیے جائیں تو اس کے بارے میں امید نہ رکھو (کہ وہ نیک آدمی ہو گا)۔ (ترمذی: ۲۴۵۵،صحیحہ:۲۸۵۰)
اگر کسی شخص کو دین اسلام کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اسے چاہیے کہ صاحب ِ دین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ حیات کو اسوۂ حسنہ قرار دے اور افراط و تفریط سے بچے۔
اور ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہوتی ہے کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت میںمبالغہ کرنے والا بالآخر سست پڑ جاتا ہے، اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہو۔
اس حدیث ِ مبارکہ میں دو قسم کے لوگوں کا بیان ہے:
۱ … نیک لوگ، جو اعتدال اور میانہ روی سے کام لیتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بندوں، بالخصوص ماں باپ، اہل و عیال اور اعزہ واقارب کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، ان کے معاملات میں تسلسل اور استقامت ہوتی ہے، ان کی عبادات میں اس قدر کثرت نہیں پائی جاتی کہ وہ اس بنا پر مشہور ہو جائیں، عام طور پر ایسے لوگ پرخلوص ہوتے ہیں اور اپنی مراد پر فائز ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کے بارے میں اچھی امید رکھنی چاہیے۔
۲ … اس کے برعکس کچھ لوگ عبادت اور نیکی میں اس قدر افراط اور غلو کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف انگلیاں اٹھانے لگ جاتے ہیں، سب لوگوں میں ان کا بڑا شہرہ ہونے لگتا ہے کہ فلاں بڑا عابد و زاہد، درویش ِ کامل اور عالم و فاضل ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ مکّار اور ریاکار نکلتے ہیں، ان کی غرض شہرت اور ناموری ہوتی ہے، افراط و تفریط میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ بیوی بچوں اور ماں باپ کے حقوق پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یہ طریقہ خلاف ِ سنت ہے۔
اس میں جاہل درویشوں کا ردّ ہے، جو رات دن مراقبے اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں، سخت سخت ریاضت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو شریعت کا پابند ٹھہرنا چاہیے نہ کہ اپنی عقل کا اور جہاں تک ہو سکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپنے اعمال کو مخفی رکھنا چاہیے۔ ہر وقت یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کا خیال رکھا جائے، ہمارے ماحول میں بھی افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ کچھ لوگ حقوق اللہ کا بہانہ کر کے بندوں کے حقوق سے غفلت برت رہے ہیں اور کچھ حقوق العباد کابہانہ کر کے اللہ تعالیٰ کے حقوق سے غافل ہیں۔
بعض نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ کسی خطیب کے خطاب یا کسی نیکوکار کی مجلس سے متاثر ہو کر عملی طور پر اسلام کی طرف راغب ہوتے ہے اورہفتہ عشرہ تک ان کا عمل جاری رہتا ہے، پھر ان پر غفلت اور سستی کاحملہ ہوتا ہے اور مزاج یکسر بدل جاتا ہے، اس وقت ان کے لیے انتہائیضروری ہوتا ہے کہ وہ عبادت کی روٹین کو برقرار رکھ کر شیطان کا مقابلہ کریں،یہاں تک کہ دوبارہ پھر رغبت پیدا ہوئے، یہ رغبت ان شاء اللہ دائمی ہو گی، جو لوگ غفلت والے اس پیریڈ میں اپنی روٹین کو ترک کر دیتے ہیں، ان کی عبادات میں کبھی تسلسل اور دوام نہیں آ سکتا، بلکہ وہ اپنی انسانیت کو سمجھنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کی تکلیف اٹھاؤ، جس کی تم کو طاقت ہے، پس بیشک بہترین عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8908]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8584»
وضاحت: فوائد: … تھوڑی مقدار والے قلیل عمل پر دوام اختیار کرنا، اس بڑی مقدار والے عمل سے بہتر اور افضل ہے، جس پر ہمیشگی نہ کی جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8909
عَنْ أَبِي صَالِحٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتَا مَا دَامَ وَإِنْ قَلَّ
۔ ابو صالح کہتے ہیں؛ سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا، انھوں نے کہا: جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8909]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24544»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8910
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدِّثِينِي بِأَحَبِّ الْعَمَلِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا
۔ (دوسری سند) اسود کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے ایسا عمل بیان کرو، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہو، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے پسندیدہ وہ عمل تھا، جس پر آدمی ہمیشگی کرے، اگرچہ اس کی مقدار کم ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8910]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25330»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8911
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا فُلَانَةٌ لِامْرَأَةٍ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ ( (مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری پاس تشریف لائے تو اس وقت میرے پاس فلاں خاتون بیٹھی ہوئی تھی، میں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تم اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، اللہ کی قسم ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت نہیں اکتاتا، جب تک تم نہ اکتا جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے پسند یدہ دین وہ ہے، جس پر آدمی ہمیشگی اختیار کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8911]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري43، ومسلم: 785، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24749»
وضاحت: فوائد: … یہ خاتون سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا تھیں۔
اکتانے اور نہ اکتانے سے مراد یہ ہے کہ جب تک تم مستعدی کے ساتھ عمل جاری رکھو گے، وہ اجرو ثواب اور نزولِ رحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور جب تم عمل ترک کر دو گے تو وہ اجرو ثواب کا سلسلہ منقطع کر دے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نَسُوْا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ} … انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ (سورۂ توبہ:۶۷)
اکتانے اور نہ اکتانے سے مراد یہ ہے کہ جب تک تم مستعدی کے ساتھ عمل جاری رکھو گے، وہ اجرو ثواب اور نزولِ رحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور جب تم عمل ترک کر دو گے تو وہ اجرو ثواب کا سلسلہ منقطع کر دے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نَسُوْا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ} … انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ (سورۂ توبہ:۶۷)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8912
عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ خاتون رات کو بہت زیادہ نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند غالب آنے لگتی ہے تو یہ اپنے آپ کو ایک رسی کے ساتھ باندھ کر لٹکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو طاقت ہو، یہ نماز پڑھے، لیکن جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8912]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26840»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8913
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ( (مَا هَذَا) ) فَقَالُوا لِزَيْنَبَ فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ فَقَالَ ( (حُلُّوهُ) ) ثُمَّ قَالَ ( (لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (لَتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ وہاں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ سست پڑتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھول دو، چاہیےیہ کہ آدمی پھرتی اور مستعدی کی حالت میں نماز پڑھے، جب وہ سست پڑ جائے تو قیام ترک کر دے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو سمجھ آ رہی ہو، نماز پڑھے اور جب وہ (نیند کی وجہ) مغلوب ہو جائے تو سو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8913]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1150، ومسلم: 784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12009»
وضاحت: فوائد: … انسان پر جسم کا بھی حق ہے، اس کو بھی سکون ملنا چاہیے، لیکن اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے رات کے قیام کا اہتمام نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8914
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ( (لِمَنْ هَذَا) ) قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ ( (لَتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ) )
۔ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی رسی دیکھی اور پوچھا: یہ کس کی ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ (نماز پڑھتے پڑھتے) عاجز آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق نماز پڑھے، پس جب وہ عاجز آ جائے تو (نماز ترک کر کے) بیٹھ جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8914]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 3831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12946»
الحكم على الحديث: صحیح