الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ الْأَخْذِ بِالرَّحْصَةِ وَعَدْمِ التَّشْدِيدِ فِي الدِّينِ
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
حدیث نمبر: 8928
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ) ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) کچھ لوگوں نے امہات المؤمنین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرّی عبادات کے بارے میں پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان (مخفی امورِ عبادت) کے بارے میں سوال کرنے لگ گئے جو میں کرتا ہوں، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8928]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13763»
وضاحت: فوائد: … دراصل یہ حدیث اوپر والی حدیث کا حصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخفی امورِ عبادت کے بارے میں سوال کرنا قابل تعریف بات ہے، لیکن اگر نظریہیہ ہو کہ سوال کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر عمل کرے گا تو پھر معاملہ غلط ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13763
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8928 in Urdu