🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ الْأَخْذِ بِالرَّحْصَةِ وَعَدْمِ التَّشْدِيدِ فِي الدِّينِ
دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8928
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ( (مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ) ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) کچھ لوگوں نے امہات المؤمنین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرّی عبادات کے بارے میں پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان (مخفی امورِ عبادت) کے بارے میں سوال کرنے لگ گئے جو میں کرتا ہوں، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8928]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13763»
وضاحت: فوائد: … دراصل یہ حدیث اوپر والی حدیث کا حصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخفی امورِ عبادت کے بارے میں سوال کرنا قابل تعریف بات ہے، لیکن اگر نظریہیہ ہو کہ سوال کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر عمل کرے گا تو پھر معاملہ غلط ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13763
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8929
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ تُؤْتَى مَعْصِيَتُهُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ رخصتوں پر عمل کرنے کو اس طرح پسند کرتا ہے، جیسے وہ نافرمانیوں کو ناپسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8929]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 988، وابن حبان: 3568، والبيھقي: 3/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5873»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۳۸۴۰)، اس مقام پر روزہ کی رخصت کے بارے سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، اس سے مذکورہ بالا حدیث کا مفہوم سمجھ آ جائے گا۔ مزید ایک مثال درج ذیل ہے: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا اور لوگوں نے بھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کراع غمیم کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ روزے کی وجہ سے بڑی مشقت میں ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اتنا بلند کیا کہ لوگوں نے دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی پی لیا،یہ عصر کے بعد کا وقت تھا، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ بعض لوگوں نے ابھی تک روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ أُولٰئِکَ الْعُصَاۃُ۔)) … یہ لوگ نافرمان ہیں،یہ لوگ نافرمان ہیں۔ (صحیح مسلم: ۱۸۷۸) اس حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ بالا حدیث کا معنی واضح کر دیا گیا ہے کہ جب رخصت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بندہ خواہ مخواہ کی مشقت میں پڑ رہا ہو، بلکہ اس کا نقصان ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں رخصت پر عمل کرنا ضروری ہو گا اور یہی عمل اللہ تعالیٰ کو پسند ہو گا، اگر کوئی اشد ضرورت کے وقت بھی رخصت کے معاملے میں تردّد میں پڑا رہے تو وہ نافرمان ہو گا۔ بطورِ مثال چند ایک رخصتیں درج ذیل ہیں:
تیمم کی رخصت،موزوں یا جرابوں پر مسح کرنے کی رخصت، اشارے سے نماز پڑھنے کی رخصت،فرض نماز بیٹھ کر ادا کرنے کی رخصت، بارش اور سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت، بارش کے دوران مسجد میں نہ جانے کی رخصت، مالی استطاعت رکھنے والے بیمارکے لیےیہ رخصت کہ وہ خود حج کے لیے نہ جائے، کسی بندے کو بھیج دے، سفر اور بیماری کی وجہ سے روزے اور نماز کی مخصوص رخصتیں، انتہائی مجبوری میں حرام کھانے کی رخصت وغیرہ، دراصل رخصتیں اسلام کا حسن ہیں۔
ہمارے ہاں بعض لوگ رخصتوں پر عمل کرنے والوں کو بڑی عجیب نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلکہ اُن کی نظر میں ایسے لگ رہا ہوتا ہے، جیسے وہ جرم کر رہے ہیں،یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، شریعت کسی کے فہم کا نام نہیں ہے، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کا نام ہے، اگر حضر میں نمازِ ظہر کی دس رکعتیں ہیں تو سفر میں صرف دو، حالانکہ سفر میں دس رکعتوں کی ادائیگی کوئی وبالِ جان تو نہیں ہے، لیکنیہ شریعت کا فیصلہ ہے، ہمارا کوئی اختیار نہیں، کتنی خوبصورت بات کہی امام زہری رحمتہ اللہ علیہ نے، وہ کہتے ہیں: عَلَی اللّٰہِ الْبَیَانُ وَعَلَی الرَّسُوْلِ اَلْبَلاَغُ وَعَلَیْنَا اَلتَّسْلِیْمُ۔ … اللہ تعالیٰ پر واضح کرنا ہے، رسول پر پہنچانا ہے اور ہم پر تسلیم کرنا ہے۔
رخصت کی اقسام:
أ: بوقتِ ضرورت حرام چیز کو جائز قرار دینا‘ جیسے زندگی بچانے کے لئے مجبورًا مردارکھانا‘ خون پینا۔
ب: واجب کو وقتی طور پر ترک کرنے کی رخصت دینا‘ جیسے مسافر اور مریض کے لئے رمضان کے روزے۔
ج: عام اصول و قواعد سے ہٹ کر بعض تجارتی معاملات کی اجازت دینا‘ جیسے بیع سلم‘ جس میں اصل چیز موجود نہیں ہوتی۔
رخصت کا حکم: رخصت کا اصل حکم تو مباح کا ہے‘ کیونکہ اس کا اصل مقصود لوگوں سے مشقت کو دور کرنا ہے‘ جیسے مسافر یا مریض کے لئے رمضان میں روزے نہ رکھنے کی رخصت ہے۔
بعض اوقات رخصت کی بہ نسبت عزیمت پر عمل کرنا افضل ہوتا ہے‘ جیسے قتل جیسی مجبوری کے وقت زبان سے کلمۂ کفر کہنا جائز تو ہے‘ لیکن حق پر ڈٹے رہنا زیادہ بہتر ہے۔
کبھی کبھی رخصت پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے‘ جیسے بھوک کی وجہ سے موت کے خطرے کو ٹالنے کے لئے حرام چیزیں کھا لینا۔
کیونکہ جان بچانا ضروری اور فرض ہے قرآن مجید میں ہے: {لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ} (البقرۃ) اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8930
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ) )
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رخصت قبول نہ کی، اس پر عرفہ کے پہاڑوں کی مانند گناہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8930]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة رُزيق الثقفي، وابن لھيعة سييء الحفظ وقد اضطرب في اسناده، أخرجه الطبراني في الاوسط: 4532، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17587»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة رُزيق الثقفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں