Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فى الترغيب فى أعمال البر والطاعة مطلقا
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8946
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: اے آدم کے بیٹے! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غِنٰی سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ختم کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو تیرے سینے کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو پورا نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8946]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابن ماجه: 4107، والترمذي: 2466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8681»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عبادات اور دنیوی معاملات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہوئے اس پر مکمل بھروسہ کیا جائے۔ مثلا معاملات کے سلسلے میں صرف ان چیزوں کا کاروبار کیا جائے، جن کی تجارت کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے اور ان اشیا کی خرید و فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے، جو شریعت کی روشنی میں حرام ہیں۔ مثلا سگریٹ، نسوار، ہیروئن، چرس، شیو کرنا، بالوں کو کالا رنگ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اگر کسی کا کوئی سرکارییا پرائیویٹ کام ہو تو امانت و دیانت سے متصف ہو کر اور نگران کی موجودگی و عدم موجودگی کی پرواہ کئے بغیر اس کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے اور نماز فجر، نماز عشاء کے وقت یا تعطیل کی صورت میں کچھ وقت کے لیے اللہ تعالیٰ کے گھروں میںیا اپنے گھروں میں بیٹھ کر ذکر اذکار اور تلاوت ِ قرآن کے ذریعے روح میں پیدا ہونے والی آلودگی کو صیقل و زائل کیا جائے۔
اس سلسلے میں دوسرا پہلو یہ ہے کاروبار، کھیتی باڑی اور دفتری کام کے دوران اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے فوراً پورا کیا جائے۔ مثلا نماز کا وقت، کسی تنگدست کی معاونت، کسی بیمار کی تیماری داری، کسی مہمان کی میزبانی، زکوۃ کی ادائیگی،حج کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ۔
حاصل کلام یہ ہے کہ کسی دنیوی پہلو کو اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر ترجیح نہ دی جائے اور حسب استطاعت نفلی عبادات کا بھی اہتمام کیا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ موجود رہے۔

الحكم على الحديث: صحیح