یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى تعريف البر والإثم
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
حدیث نمبر: 8985
عَنْ وَابِصَةَ يَعْنِي ابْنَ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَسْتَفْتُونَهُ فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ فَقَالُوا إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ دَعُونِي فَأَدْنُوَ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَقَالَ دَعُوا وَابِصَةَ ادْنُ يَا وَابِصَةُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا وَابِصَةُ أُخْبِرُكَ أَوْ تَسْأَلُنِي قُلْتُ لَا بَلْ أَخْبِرْنِي فَقَالَ جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ نَعَمْ فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَيَقُولُ يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ
۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8985]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل الزبير ابي عبد السلام، ثم ھو منقطع بينه و بين ايوب، أخرجه الدارمي: 2533، وابويعلي: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18169»
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8985 in Urdu