🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الترغيب فى اكرام الأنات من الأولاد فضل تربيتهن والعطف عليهن
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9048
۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّھَا قَالَتْ: جَائَ تْنِیْ مِسْکِیْنَۃٌ تَحْمِلُ ابْنَتَیْنِ لَھَا، فَاَطْعَمْتُھَا ثَـلَاثَ تَمَرَاتٍ، فَاَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُمَا تَمْرَۃً، وَرَفَعَتْ اِلٰی فِیْھَا تَمْرَۃً لِتَاْکُلَھَا، فَاسْتَطْعَمَتْھَا ابْنَتَاھَا فَشَقَّتِ التَّمْرَۃَ الَّتِیْ کَانَتْ تُرِیْدُ اَنْ تَاْکُلَھَا بَیْنَہُمَا، قَالَتْ: فَاَعْجَبَنِیْ شَاْنُھَا، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ الَّذِیْ صَنَعَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ( (اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ اَوْجَبَ لَھَا بِھَا الْجَنَّۃَ وَاَعْتَقَھَا بِھَا مِنَ النَّارِ۔) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی، اس نے دو بچیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کھجور دی اور ایک خود کھانے کے لیے منہ کی طرف اٹھائی، لیکن اس کی دونوں بیٹیوں نے وہ کھجور بھی ا س سے لینا چاہی، پس اس نے اس کھجور کے ٹکڑے کیے اور ان دونوں کو دے دیے، مجھے اس کی اس کاروائی نے تعجب میں ڈال دیا اور جب میں نے اس کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا ہے اور جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9048]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24611 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! اگر بچیاںیا بہنیں مل جائیں تو جنت کو حاصل کرنا کتنا آسان ہو جاتا ہے۔
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہیں، ان کا رحمت ہونے کااس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ باپ ان کے ساتھ حسن صحبت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ بلا شک و شبہ ہر معاشرے میں اور ہر دور میں بیٹوں کی تمنائیں کی جاتی رہیں، لیکن اگر ان خواہشات کی تکمیل نہ ہو سکے تو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو اپنی تمنا سے زیادہ حکمت و دانائی والا سمجھ کر بیٹیوں پر مکمل رضامندی کا اظہار کیا جانا چاہیے۔
ہاںیہ علیحدہ بات ہے کہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیٹیوں کا اتنا لحاظ نہ کیا جائے کہ انھیں وقت ضائع کرنے کے لیے اور ان کے طبعی شرم و حیا کو متاثر کرنے کے لیے انٹر نیٹ، کیبل نیٹ ورک، وی سی آر، موبائل اور سی ڈی پلیرکی صورت میں بے حیائی کے تمام مواقع مہیا کئے جائیں۔ والدین کا امتیاز اس میں ہے ان کی بیٹیاں نیکی و پارسائی اور تقوی وطہارت میں اپنی مثال آپ ہوں۔
اگریہ ایجادات کسی بچی کی ضرورت بن جائیں تو اس کی تربیت کرنا، اس کے نقصان دہ پہلو سے اس کو آگاہ کرنا اور حسب ِ استطاعت اس کی نگرانی کرنا ضروری ہے، کوئی مانے یا مانے نیٹ لیکنیہ حقیقت ہے کہ موبائل کی وجہ سے کئی لڑکے اور لڑکیاں بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9048 in Urdu