یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب الترغيب فى العفو عن المظالم وفضله
ظلم کو معاف کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کابیان
حدیث نمبر: 9184
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلِمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ الْمَسْأَلَةِ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قِلَّةً
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاس تشریف فرماتھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعجب کررہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ جب اُس شخص نے زیادہ گالیاں دیں تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بعض گالیوں کا جواب دیا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو گئے اور چلے گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جاملے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ مجھ پر سب و شتم کرتا رہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے رہے، جب میں نے اس کی بعض گالیوں کا جواب دیا تو آپ غصے میں آگئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل تیرے ساتھ ایک فرشتہ تھا، جو تیری طرف سے جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم نے خود جوابی کاروائی شروع کی تو شیطان آ گھسا، اب میں شیطان کے ساتھ تو نہیں بیٹھ سکتا۔ پھر آپ نے فرمایا: ابو بکر! تین چیزیں برحق ہیں: (۱)جس آدمی پر ظلم کیا جائے اور وہ آگے سے چشم پوشی کر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی زبردست مدد کرتے ہیں، (۲) جو آدمی تعلقات جوڑنے کے لیے عطیے دینا شروع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو کثرت سے عطا کرتے ہیں اور (۳) جو آدمی اپنے مال کو بڑھانے کے لیے (لوگوں سے) سوال کرنا شروع کرتاہے، اللہ تعالیٰ (اس کے مال کی) کمی میں اضافہ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9184]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9622»
وضاحت: فوائد: … اگر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ذاتی انتقام لینے کی اجازت نہیں دی گئی اور اگر خلیفۂ اول کی جوابی کاروائی کی وجہ سے فرشتہ چلا جائے اور شیطان آ گھسے تو ہم جیسوں کے لیے بدلہ لینا کیسا ہو گا، جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی ذات پر کیے گئے اعتراض کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9184 in Urdu